اسلام آباد: پاکستان میں ہوائی سفر مہنگا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے کیونکہ طیاروں میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیٹ فیول) کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت 176 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 417 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنیادی کرایہ تاحال برقرار ہے، تاہم فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض ایئرلائنز کے کرایوں میں 100 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
قومی ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق مختلف روٹس پر فیول سرچارج نافذ کر دیا گیا ہے۔ مقامی پروازوں پر تقریباً 10 ڈالر جبکہ کینیڈا جانے والی پروازوں پر 100 ڈالر تک اضافی چارجز لاگو کیے گئے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ کے لیے 75 ڈالر اور سعودی عرب و خلیجی ممالک کے لیے 50 ڈالر تک سرچارج عائد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب نجی ایئرلائنز نے بھی 15 سے 150 ڈالر تک اضافی چارجز متعارف کروا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں فضائی حدود کی بندش اور دیگر عوامل کی وجہ سے ایئرلائنز کو اضافی دباؤ کا سامنا ہے، جس کا اثر براہ راست مسافروں پر پڑ رہا ہے۔