اسلام آباد: وفاقی حکومت نے یکم مارچ کو گلگت بلتستان میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ واقعات ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل کے بعد خطے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے دوران سامنے آئے۔
اسکردو اور گلگت شہر میں ہونے والے ان واقعات کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد مظاہرین جاں بحق جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
اسلام آباد سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی کو ان واقعات کی مکمل اور جامع تحقیقات کا مینڈیٹ دیا گیا ہے تاکہ حالات و واقعات کا جائزہ لے کر اصلاحی اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔
کمیٹی کی سربراہی وزارت داخلہ کے اسپیشل سیکریٹری داؤد محمد بریچ کریں گے۔ دیگر ارکان میں نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ محمد ادریس احمد، وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری طارق سلام مروت، اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان عوامل اور محرکات کا جائزہ لے جن کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی، اور یہ بھی دیکھے کہ مظاہرین کی منظم نقل و حرکت کس طرح ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردعمل کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔
کمیٹی مختلف اداروں کے درمیان ممکنہ غفلت، کوتاہی یا رابطے کی کمی کا بھی جائزہ لے گی، جبکہ سرکاری تنصیبات سمیت عوامی و نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے ساتھ ذمہ داروں کے تعین کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بھی مرتب کرے گی، جس میں انٹیلی جنس رابطوں کو مضبوط بنانا، ہجوم کو کنٹرول کرنے کے مؤثر طریقے، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہوگا۔
کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مزید متعلقہ حکام کو شامل کر سکتی ہے اور ضروری ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ 30 دن کے اندر سفارشات کے ساتھ حکومت کو پیش کی جائے گی۔